Wednesday, 12 May 2021

خود سے ناراض زمانے سے خفا رہتے ہیں

 خود سے ناراض، زمانے سے خفا رہتے ہیں​

جانے کیا سوچ کے ہم سب سے جدا رہتے ہیں​

کس طرح آ کے بسے کوئی تِری بستی میں​

تیری بستی میں تو پتھر کے خدا رہتے ہیں​

عمر گزری ہو اندھیروں کے نگر میں جن کی​

وہ زمانے کے لیے بن کے دیا رہتے ہیں

​دور ہیں مجھ سے بظاہر گو مِرے سب اپنے​

میرے دل میں وہ مگر مثلِ دعا رہتے ہیں​

میں نے مانا کہ مِرے ساتھ نہیں ہیں لیکن​

وہ مِرے دل کی مگر بن کے صدا رہتے ہیں​

ہم نے مانا کہ سزا وار نہیں اہلِ وفا​

جانے کس جرم کی پاتے وہ سزا رہتے ہیں​

ملک و ملت پہ جو مٹتے ہیں، شہیدانِ وطن​

جسم مٹنے پہ بھی زندہ وہ سدا رہتے ہیں​

جن کو بچپن سے ہی اپنوں کی محبت نہ ملے​

ان کے جیون میں ہمیشہ ہی خلا رہتے ہیں​

ایک وہ ہیں کہ جفا جن کا ہے شیوہ عذرا

ایک ہم ہیں کہ جو پابندِ وفا رہتے ہیں​

عذرا ناز

No comments:

Post a Comment