Tuesday, 18 May 2021

اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے

 اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے

ہے خواب تو بھی تیری تمنا بھی خواب ہے

یہ التزامِ دیدۂ خوش خواب بھی ہے خواب

رنگِ بہار، قامتِ زیبا بھی خواب ہے

وہ منزلیں بھی خواب ہیں آنکھیں ہیں جن سے چور

ہاں یہ سفر بھی خواب ہے رستہ بھی خواب ہے

یہ رفعتیں بھی خواب ہیں یہ آسماں بھی خواب

پرواز بھی ہے خواب، پرندہ بھی خواب ہے

ہیں اپنی وحشتیں بھی بس اک خواب کا طلسم

یارو! فسونِ وسعتِ صحرا بھی خواب ہے


احمد صغیر

No comments:

Post a Comment