Tuesday, 18 May 2021

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا

 ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا

میں وہ ہوں خود جو کبھی اپنا ہمسفر نہ بنا

نگر نگر میں نئی بستیاں بسائی گئیں

ہزار چاہا مگر پھر بھی اپنا گھر نہ بنا

یہ بات بات ہے دل کی تو پھر جھجک کیسی

یہ نقش نقشِ وفا ہے تو سوچ کر نہ بنا

چمکتے دن کے اُجالوں سے آشنا ہو کر

اندھیری رات میں سائے کو ہمسفر نہ بنا


احمد ضیا

No comments:

Post a Comment