حرف سب معتبر نہیں ہوتے
نالے سب بے اثر نہیں ہوتے
کر کے تیاری اترو میداں میں
معرکے یوں ہی سر نہیں ہوتے
بات بنتی تو کس طرح بنتی
درمیاں تم اگر نہیں ہوتے
ہم وہ خانہ بدوش ہیں لوگو
جن کے کوئی بھی گھر نہیں ہوتے
میرا صحرا ہی میری جنت ہے
اس سے بڑھ کر نگر نہیں ہوتے
خواجہ اشرف
کے اشرف
No comments:
Post a Comment