Saturday, 13 November 2021

تیری آنکھوں میں کچھ شراب سی ہے

 تیری آنکھوں میں کچھ شراب سی ہے

میری نیت ذرا خراب سی ہے

نازکی، سرخی، تازگی، خوشبو

آپ کی ہر صفت گلاب سی ہے

ہر کوئی پڑھ رہا ہے کیا کیا کچھ

اس کی صورت کھلی کتاب سی ہے

نیم جاں ہوں ابھی، ابھی بے جاں

کیفیت ماہیٔ بے آب سی ہے

آنکھیں بھیگی ہیں جلتا ہے سینہ

تن میں بے ربطی لاجواب سی ہے

بدر کس شعر کو کرے مقطع

صورتِ حال انتخاب سی ہے


بدر محمدی

No comments:

Post a Comment