اسے بے کار کرنا چاہتا ہوں
میں خود سے پیار کرنا چاہتا ہوں
مِرے جیسا ہی ہے دشمن بھی میرا
میں خود پر وار کرنا چاہتا ہوں
مِرا اگلا قدم جانے کدھر ہو
تجھے دیوار کرنا چاہتا ہوں
اب اپنے ٹوٹے پھوٹے زائچے کو
سخن آثار کرنا چاہتا ہوں
اسے بھی اپنے پاگل پن میں شاید
میں خود بے زار کرنا چاہتا ہوں
نعمان شوق
No comments:
Post a Comment