Sunday, 7 November 2021

اسے بیکار کرنا چاہتا ہوں

 اسے بے کار کرنا چاہتا ہوں

میں خود سے پیار کرنا چاہتا ہوں

مِرے جیسا ہی ہے دشمن بھی میرا

میں خود پر وار کرنا چاہتا ہوں

مِرا اگلا قدم جانے کدھر ہو

تجھے دیوار کرنا چاہتا ہوں

اب اپنے ٹوٹے پھوٹے زائچے کو

سخن آثار کرنا چاہتا ہوں

اسے بھی اپنے پاگل پن میں شاید

میں خود بے زار کرنا چاہتا ہوں


نعمان شوق

No comments:

Post a Comment