Saturday, 8 October 2022

آپ کے واسطے سایہ ہے ثمر آپ کا ہے

 آپ کے واسطے سایہ ہے، ثمر آپ کا ہے

بیج بویا تھا کبھی ہم نے، شجر آپ کا ہے

آپ کے واسطے دروازہ کُھلا چھوڑ دیا

دل میں گھر کرنا ہے کیسے یہ ہنر آپ کا ہے

ہم تو گمنام جزیروں کے مسافر ٹھہرے

منزلیں آپ کی ہیں، اور سفر آپ کا ہے

سارے کردار کہانی میں کہیں رک سے گئے

ایک چلتا ہوا کردار مگر آپ کا ہے

وادئ چشمِ تمنا میں بسے ہر جانب

آپ کے خواب ہیں یہ خواب نگر آپ کا ہے

یک زباں ہو کے یہ کہتے ہیں در و بام سبھی

آتے جاتے رہا کیجے، کہ یہ گھر آپ کا ہے

جھانکنے لگتی ہے تلخی کسی روزن سے کہیں

تھوڑا تھوڑا میرے لہجے میں اثر آپ کا ہے


بشریٰ فرخ

No comments:

Post a Comment