Wednesday, 12 October 2022

اس نے ہم سے یہی شکایت کی

اس نے ہم سے یہی شکایت کی

اس قدر ہم سے کیوں محبت کی

عاشقوں کی نماز ہونے لگی

اور میاں قیس نے امامت کی

لائے تشریف میرے خوابوں میں

خواہ مخواہ آپ نے یہ زحمت کی

وہ تھے تزئین حسن میں مصروف

ہم نے ملنے میں تھوڑی عجلت کی

اس نے دیکھا مگر نہ پہچانا

خیر جو بھی کیا عنایت کی

پھر سکوں دل کا ہو گیا برباد

تیری یادوں نے کیا قیامت کی

رشتے اکثر ہیں جھوٹ پر قائم

کوئی قیمت نہیں صداقت کی

عشق کے نام پر ہوئے برباد

پر نہ محبوب سے شکایت کی

چند آنسو ہیں اس کی یادیں ہیں

بات کچھ پوچھیے نہ خلوت کی


محسن ساحل

No comments:

Post a Comment