اس نے ہم سے یہی شکایت کی
اس قدر ہم سے کیوں محبت کی
عاشقوں کی نماز ہونے لگی
اور میاں قیس نے امامت کی
لائے تشریف میرے خوابوں میں
خواہ مخواہ آپ نے یہ زحمت کی
وہ تھے تزئین حسن میں مصروف
ہم نے ملنے میں تھوڑی عجلت کی
اس نے دیکھا مگر نہ پہچانا
خیر جو بھی کیا عنایت کی
پھر سکوں دل کا ہو گیا برباد
تیری یادوں نے کیا قیامت کی
رشتے اکثر ہیں جھوٹ پر قائم
کوئی قیمت نہیں صداقت کی
عشق کے نام پر ہوئے برباد
پر نہ محبوب سے شکایت کی
چند آنسو ہیں اس کی یادیں ہیں
بات کچھ پوچھیے نہ خلوت کی
محسن ساحل
No comments:
Post a Comment