Friday, 7 October 2022

اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے

 شام


اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے

کوئی اجڑا ہوا، بے نور پرانا مندر

ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے

چاک ہر دم، ہر اک در کا دمِ آخر تک

آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے

جسم پر راکھ ملے، ماتھے پر سیندور ملے

سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نجانے کب سے

اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے

جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام

دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام

اب کبھی شام بجھے گی نہ اندھیرا ہو گا

اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا

آسماں آس لیے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے

چپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھوٹے

دے کوئی سنکھ دُہائی، کوئی پائل بولے

کوئی بُت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے


فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment