Thursday, 6 October 2022

سہمی ہے شام جاگی ہوئی رات ان دنوں

 سہمی ہے شام جاگی ہوئی رات ان دنوں

کتنے خراب ہو گئے حالات ان دنوں

یعنی کہ میں خدا سے بہت دور ہو گیا

اُٹھتے نہیں دعا کو مِرے ہاتھ ان دنوں

رُوٹھی ہوئی ہے چاند سے اک چاندنی دُلہن

بے نُور ہے یہ تاروں کی بارات ان دنوں

نا آشنائے سوزشِ غم ہے تمام شہر

سمجھے نہ تم بھی حِدتِ جذبات ان دنوں

اُترا ہے میری آنکھ میں بادل کا اک ہجوم

ہر صبح و شام ہوتی ہے برسات ان دنوں

مُدت ہوئی کہ چُھوٹ گیا خود سے اپنا نفس

تم سے بھی ہو سکی نہ ملاقات ان دنوں

یہ شعر و شاعری کا ہی فیضان ہے قمر

دُشمن بھی کر رہا ہے تِری بات ان دنوں


عباس قمر

No comments:

Post a Comment