اے دلِ خوش فہم اس آزار سے باہر نکل
ڈھل گئی شب اب خیالِ یار سے باہر نکل
عشق جس رفتار سے وارد ہوا دل میں مِرے
اس سے کہہ دو اب اسی رفتار سے باہر نکل
اب ضرورت عزتوں پر حملہ زن ہونے کو ہے
زندگی! چل خیمۂ خوددار سے باہر نکل
تیرگی نے شام سے پہلے ہی حملہ کر دیا
روشنی اب حلقۂ پندار سے باہر نکل
دل کبھی ایک اور ساعت کی طلب ظاہر کرے
حرفِ بے معنی لبِ اظہار سے باہر نکل
ہو نہیں سکتی چراغوں سے ہوا کی دوستی
فکرِ نو بزمِ لب و رخسار سے باہر نکل
تجھ سے آشفتہ مزاجوں کو نہ راس آئے گا یہ
التمش! اس شہرِ پر اسرار سے باہر نکل
التمش عباس
No comments:
Post a Comment