روٹیوں کی قید میں
بہت بڑا ہے یہ ایک احسان روٹیوں کا
جسے چکانے میں عمر میری گزر گئی ہے
صدائیں دیتے ہیں کھیت مجھ کو
بلاتا رہتا ہے گاؤں میرا
پکارتے ہیں وہ سارے رشتے
مگر میں اب کیسے جاؤں واپس
اتاروں کیسے؟
یہ ایک احسان اپنے سر سے
نہیں ہے زنجیر کوئی لیکن
میں ایک قیدی ہوں روٹیوں کا
عباس رضا نیر
No comments:
Post a Comment