Sunday, 9 October 2022

میں ایک قیدی ہوں روٹیوں کا

روٹیوں کی قید میں


بہت بڑا ہے یہ ایک احسان روٹیوں کا

جسے چکانے میں عمر میری گزر گئی ہے

صدائیں دیتے ہیں کھیت مجھ کو

بلاتا رہتا ہے گاؤں میرا

پکارتے ہیں وہ سارے رشتے

مگر میں اب کیسے جاؤں واپس

اتاروں کیسے؟

یہ ایک احسان اپنے سر سے

نہیں ہے زنجیر کوئی لیکن

میں ایک قیدی ہوں روٹیوں کا


عباس رضا نیر

No comments:

Post a Comment