Sunday, 2 October 2022

ان کے جلووں پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے

 ان کے جلووں پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے

کوچۂ یار میں یوں اپنی بسر ہوتی ہے

جانے کیا چیز محبت کی نظر ہوتی ہے

وہ جدھر ہوتے ہیں دنیا ہی ادھر ہوتی ہے

ہوش والے میری وحشت کو بھلا کیا سمجھیں

ان کے دیوانوں کو عالم کی خبر ہوتی ہے

عشق میں چاند ستاروں کی حقیقت کیا ہو

جلوۂ یار پہ قربان سحر ہوتی ہے

آپ کی یاد سے ہوتا ہے مِرا دل روشن

آپ کو دیکھ کے بیدار نظر ہوتی ہے

میری ان کو نہ خبر ہو یہ کوئی بات نہیں

ان کو تو سارے زمانے کی خبر ہوتی ہے

جذبۂ عشق میں جنت کی تمنا کیسی

یہ بلندی تو مِری گردِ سفر ہوتی ہے

ہیچ ہوتی ہے نگاہوں میں متاعِ کونین

میرے دلبر کی نظر جب بھی ادھر ہوتی ہے

میرے دامن میں سما جاتے ہیں دونوں عالم

میرے جاناں کی نظر جب بھی ادھر ہوتی ہے

اور کیا ہو گی مِرے عشق کی معراج فنا

زندگی یار کے قدموں میں بسر ہوتی ہے


فنا بلند شہری

No comments:

Post a Comment