عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تمنا روضے پہ پھر جلد حاضری کی ہے
بہار جس پہ فدا خُلد کی گلی کی ہے
ہجومِ رنج و الم سے نڈھال جب بھی ہوا
دُرود پڑھ کے طبیعت میں سرخوشی کی ہے
حضورﷺ آپ کے تلوؤں کی دید ہوجائے
سیاہ شب میں تمنا یہ روشنی کی ہے
اسی کو ملتا ہے دارین میں وقار و شرف
وہ جس نے سیرتِ سرورؐ کی پیروی کی ہے
ہمارا دامنِ امید پڑ گیا کوتاہ
قسیمِ نعمتِ رب نے کہاں کمی کی ہے
کھلایا اوروں کو باندھے شکم پہ خود پتھر
مثال ایسی کہیں فاقہ پروری کی ہے
نبیؐ نے موم سے بھی نرم سنگدلوں کو کیا
بتاؤ، ایسی کسی نے بھی رہبری کی ہے
حضورؐ رحمتِ عالمﷺ کی شان کیا کہیے
جہاں میں دھوم شہِ دیں کی سادگی کی ہے
کہاں مشاہدِ رضوی کہاں ہے نعتِ نبیﷺ
رضا کے فیض سے اس نے یہ شاعری کی ہے
مشاہد رضوی
No comments:
Post a Comment