جو کھا کے پتھر دعائیں دے گا، وہی رہے گا
ہر ایک نشتر کو جو سہے گا، وہی رہے گا
جو اپنے حصے کی ساری خوشیوں کو بانٹ دے گا
جو دُکھ جہاں کے سمیٹ لے گا، وہی رہے گا
اداس چہروں کو جس کے دم سے خوشی ملے گی
مسرتوں کو دوام دے گا،۔ وہی رہے گا
خطا پہ معافی جو مانگ لے گا غریب تر سے
انا کے کے ٹو کو سر کرے گا، وہی رہے گا
شکایتوں کو سنبھال رکھے گا اپنے دل میں
جو سُن کے آگے نہیں کہے گا، وہی رہے گا
جو اپنی خوشیوں کے سب خزینے کمائی ساری
خدا کے بندوں پہ وار دے گا، وہی رہے گا
افتخار افی
افتخار عثمانی
No comments:
Post a Comment