Saturday, 8 October 2022

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں

شوقِ پابند کو آزاد کروں یا نہ کروں؟

آپ ہیں وقت ہے فُرصت ہے ذرا یہ کہہ دو

اب بیاں عشق کی رُوداد کروں یا نہ کروں

اے غمِ ہجر! بتا اے دلِ مایوس بتا

ماتمِ حسرتِ ناشاد کروں یا نہ کروں

یوں تو اب کچھ بھی نہیں دیدۂ ویراں کو مگر

چند خوابوں سے بھی آباد کروں یا نہ کروں

میری قسمت میں سہی درد و الم کی راہیں

شادمانی کو کہیں یاد کروں یا نہ کروں

آج موسم نے کوئی مست غزل چھیڑی ہے

ضبط کو مائلِ فریاد کروں یا نہ کروں

زندگی عشق میں مِٹنا ہے تو پھر ایسے میں

ناز تجھ پہ دل برباد کروں یا نہ کروں

انقلابات میں طوفانِ سِتم میں عظمت

شانِ الطاف و کرم یاد کروں یا نہ کروں


عظمت النساء

عظمت عبدالقیوم

No comments:

Post a Comment