تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا
لیکن یہ استعارہ بھی منظوم کب ہوا
واقف کہاں تھے رات کی سرگوشیوں سے ہم
بستر کی سلوٹوں سے بھی معلوم کب ہوا
سنسان جنگلوں میں ہے موجودگی کی لَو
لیکن وہ ایک راستہ معدوم کب ہوا
شاخ بدن سے سارے پرندے تو اڑ گئے
سجدہ تیرے خیال کا مقسوم کب ہوا
نسبت کہاں رہی مجھے عصر زوال سے
میرا وجود سلطنت روم کب ہوا
اشعر نجمی
No comments:
Post a Comment