Friday, 14 May 2021

تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا

 تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا

لیکن یہ استعارہ بھی منظوم کب ہوا

واقف کہاں تھے رات کی سرگوشیوں سے ہم

بستر کی سلوٹوں سے بھی معلوم کب ہوا

سنسان جنگلوں میں ہے موجودگی کی لَو

لیکن وہ ایک راستہ معدوم کب ہوا

شاخ بدن سے سارے پرندے تو اڑ گئے

سجدہ تیرے خیال کا مقسوم کب ہوا

نسبت کہاں رہی مجھے عصر زوال سے

میرا وجود سلطنت روم کب ہوا


اشعر نجمی

No comments:

Post a Comment