Wednesday, 12 May 2021

مجھے مت اس طرح دیکھو

 معصوم بھیڑیں


مجھے مت اس طرح دیکھو

اک چراہ گاہ

سو چراہ گاہیں

کون ان ریوڑوں سے گھبرائے

پڑ گئیں کم زمینیں اپنی تو

کچھ سفر کچھ حضر کا شغل رہے

کچھ نئی بستیوں سے ربط بڑھے

ان کو آزاد کون کرتا ہے

یہ بہت مطمئن ہیں تھوڑے میں

اک ذرا سا گھما پھرا لاؤ

کچھ اِدھر کچھ اُدھر چرا لاؤ

بھیڑیں معصوم

بے ضرر سی ہیں

جس طرف ہانک دو

چلی جائیں


شہناز نبی

No comments:

Post a Comment