معصوم بھیڑیں
مجھے مت اس طرح دیکھو
اک چراہ گاہ
سو چراہ گاہیں
کون ان ریوڑوں سے گھبرائے
پڑ گئیں کم زمینیں اپنی تو
کچھ سفر کچھ حضر کا شغل رہے
کچھ نئی بستیوں سے ربط بڑھے
ان کو آزاد کون کرتا ہے
یہ بہت مطمئن ہیں تھوڑے میں
اک ذرا سا گھما پھرا لاؤ
کچھ اِدھر کچھ اُدھر چرا لاؤ
بھیڑیں معصوم
بے ضرر سی ہیں
جس طرف ہانک دو
چلی جائیں
شہناز نبی
No comments:
Post a Comment