Friday, 19 November 2021

چوکھٹ نبی کی چھوڑ کے جاتا کہاں کہاں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 چوکھٹ نبیؐ کی چھوڑ کے جاتا کہاں کہاں

ان کا فقیر ٹھوکریں کھاتا کہاں کہاں

ہوتی اگر نہ آپ کی چوکھٹ اسے نصیب

آنسو گنہ گار بہاتا کہاں کہاں

جیسے بیاں حضور کی خدمت میں کر دیا

ایسے میں دل کا حال سناتا کہاں کہاں

اچھا ہوا دیار سخاوت میں پڑ رہا

پھر کر صدا فقیر لگاتا کہاں کہاں

ہوتا احد کی جنگ میں شہزاد گر شریک

خود کو نہ ان کی ڈھال بناتا کہاں کہاں


شہزاد مجددی

No comments:

Post a Comment