Friday, 19 November 2021

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

پڑھ کر نبیؐ کی نعت لحد میں اتار دو

دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمالِ یار

اے موت مجھ کو تھوڑی سی مہلت ادھار دو

سنتے ہیں جانکنی کا ہے لمحہ بہت کٹھن

لے کر نبیﷺ کا نام یہ لمحہ گزار دو

گر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے

کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو

یہ جان بھی ظہوری نبیؐ کے طفیل ہے

اس جان کو حضورﷺ کا صدقہ اتار دو


محمد علی ظہوری​

No comments:

Post a Comment