Monday, 21 March 2022

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں

 خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا گیا ہوں

یہ کس عذاب سے دو چار کر دیا گیا ہوں

وہ چشم تھی اسے بینائی لے گئی اپنی

میں آئینہ تھا سو زنگار کر دیا گیا ہوں

میں ایک راز تھا مخفی تھا خاک میں اپنے

ابھی ابھی ہی میں اظہار کر دیا گیا ہوں

وہ دن بھی دور نہیں دوست یہ کہیں گے میاں

کہ میں تو اور بھی دشوار کر دیا گیا ہوں

تمام آنکھیں مجھے دیکھنے کو آتی ہیں

عجب طرح سے نمودار کر دیا گیا ہوں

تو کیا دکھانا ہے سب کو ہی راستہ حق کا

تو کیا میں قافلہ سالار کر دیا گیا ہوں

مِرے مزار کی یہ خاک چھان لے دنیا

کہ تیرے ہاتھ میں میں مار کر دیا گیا ہوں

یہ عشق ہے یا کوئی رمز ہے نہیں معلوم

بدن سے روح سے سرشار کر دیا گیا ہوں

بہت غرور تھا مجھ کو وجود پر جاوید

اسی لیے تو نگوں سار کر دیا گیا ہوں


سید جاوید

No comments:

Post a Comment