Monday, 21 March 2022

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے

 سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئے

کسی طرح بھی اداسی کا گھاؤ بھر جائے

ہم اب اداس نہیں سر بہ سر اداسی ہیں

ہمیں چراغ نہیں روشنی کہا جائے

جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے

گلے لگائے جسے غم سمجھ میں آ جائے

گئے دنوں میں کوئی شوق تھا محبت کا

اب اس عذاب میں یہ ذہن کون الجھائے

کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا

کوئی اداس ہوا تو گلاب مرجھائے

یہ ایک دکھ ہی دبا رہ گیا ہے آنکھوں میں

وہ ایک مصرع جسے شعر کر نہیں پائے

اگر ہوں غصے میں پھر بھی میں چاہتا یہ ہوں

میں صرف ہجر کہوں اور فون کٹ جائے


بال موہن پانڈے

No comments:

Post a Comment