کتنے زینے اترو گے اور
کتنے روپ بھرو گے تم
کتنی چالیں اور چلو گے
کتنا اور گرو گے تم
من چاہا تو اچھا سمجھا
نہ چاہا تو برے لگے
پل میں تولہ پل میں ماشہ
کتنا اور پھرو گے تم
یوں تو دریا بھی پانی ہے
اور سمندر بھی پانی
چھل بھی تو ہے پانی جیسا
کتنا اور ترو گے تم
چار دنوں کی پریت تمہاری
ایک کا ہونا سیکھا نہ
کتنے عشق کمائے اب تک
کتنے اور کرو گے تم
دین اور دنیا دونوں کو ہی
تم نے رکھا مٹھی میں
بنی کسی سے پھر بھی ناہیں
کتنا اور لڑو گے تم
جزبوں کو بھی کھیل ہی سمجھا
چہروں کے سنگ بدلا من
لمحہ لمحہ مرتے مرتے
کتنے اور مرو گے تم
اک ہوتا ہے یکسر گرنا
اک ہوتی ہے پستی بھی
تم تو دونوں سے ہی گزرے
کتنے اور گڑھو گے تم
ماوٰی سلطان
No comments:
Post a Comment