Monday, 21 March 2022

کتنے زینے اترو گے اور کتنے روپ بھرو گے تم

 کتنے زینے اترو گے اور

کتنے روپ بھرو گے تم

کتنی چالیں اور چلو گے

کتنا اور گرو گے تم

من چاہا تو اچھا سمجھا

نہ چاہا تو برے لگے 

پل میں تولہ پل میں ماشہ

کتنا اور پھرو گے تم

یوں تو دریا بھی پانی ہے

اور سمندر بھی پانی

چھل بھی تو ہے پانی جیسا

کتنا اور ترو گے تم

چار دنوں کی پریت تمہاری

ایک کا ہونا سیکھا نہ 

کتنے عشق کمائے اب تک

کتنے اور کرو گے تم

دین اور دنیا دونوں کو ہی

تم نے رکھا مٹھی میں

بنی کسی سے پھر بھی ناہیں

کتنا اور لڑو گے تم

جزبوں کو بھی کھیل ہی سمجھا

چہروں کے سنگ بدلا من

لمحہ لمحہ مرتے مرتے 

کتنے اور مرو گے تم

اک ہوتا ہے یکسر گرنا 

اک ہوتی ہے پستی بھی

تم تو دونوں سے ہی گزرے 

کتنے اور گڑھو گے تم


ماوٰی سلطان

No comments:

Post a Comment