Sunday, 9 October 2022

تو ہی جب چھت نہ بنا کیسے میں گھر ہو جاتی

تُو ہی جب چھت نہ بنا، کیسے میں گھر ہو جاتی

زندگی نظم نہیں تھی کہ امر ہو جاتی

تُو مجھے دیکھ کے چلتا میں ستارہ ہوتی

میں سفر زاد تِری وجہِ سفر ہو جاتی

اک مُصوّر نے مجھے قید کِیا رنگوں میں

ورنہ، میں شعر میں رہتی تو بسر ہو جاتی

چند ملاحوں کی دھڑکن تھی مِری غزلوں میں

میں اگر گیت نہ گاتی، تو بھنور ہو جاتی

دل سے اُتری ہوئی دنیا سے مجھے کیا لینا

آگ بن جاتی یا پھُولوں کا نگر ہو جاتی


نادیہ گیلانی

No comments:

Post a Comment