راہ در راہ مِلا کرتے ہیں سارے پتھر
بعد مرنے کے بھی ہوتے ہیں سہارے پتھر
ایک سے بسترِ راحت ہیں یہ دونوں کے لیے
آپ کے مخمل و کم خواب، ہمارے پتھر
چھوڑ سچ جھوٹ کہ لیلیٰ کے قبیلے سے ہے تُو
تجھ پہ لازم ہے کہ مجھ قیس کو مارے پتھر
بے سبب رہگزرِ عشق پہ ابہام ہیں سب
خوب پتھریلے ہیں اس راہ کے سارے پتھر
تجھ سے تو خیر محبت کا تعلق ہے سمیر
پھول کی طرح ہی لگتے ہیں تمہارے پتھر
سمیر شمس
No comments:
Post a Comment