Thursday, 6 October 2022

ہمارے گاؤں کے کالج میں کیا پڑھاتی ہے

 ہمارے گاؤں کے کالج میں کیا پڑھاتی ہے 

وہ خود کو سب سے بڑی عالمہ بتاتی ہے

عجیب طرح کی لڑکی ہے یہ محبت بھی 

کہ بات سنتی نہيں، اور بولے جاتی ہے

کسی نے ہم سے کہا اس کا نام خوشبو ہے 

جو پھول بیچنے گاؤں سے شہر آتی ہے

غلام جاگ رہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے 

کہ شاہ زادی کسے تخت پہ سلاتی ہے

یہ مالِ دنیا تو میری سمجھ میں آتا ہے 

مگر وہ اتنی محبت کہاں سے لاتی ہے 

ذرا سی بات پہ اتنی لڑائی ٹھیک نہيں 

نشے میں اچھی بُری بات ہو بھی جاتی ہے 

جو بھولنا ہےتو پھر بھول کر دکھا بھی مجھے 

یہ روز کیا تُو مجھے فون پر سناتی ہے

ہمارے شہر میں ایسی بھی ایک لڑکی ہے 

جو دیکھ سکتی نہيں دیکھنا سکھاتی ہے

یہ شاعری کسی دیوی کی دین تھوڑی ہے 

یہ پوجا پاٹ نہيں غم سے ہاتھ آتی ہے

پھر اس کے بعد گزرتا کہاں ہے وقت عامی 

وہ بات کرتے ہوئے جب گھڑی گھماتی ہے


عمران عامی

No comments:

Post a Comment