کٹ گئے پنچھیوں کے ڈھیروں پر
پھر بھی ہیں مطمئن منڈیروں پر
حکمراں، اور ظلم ڈھانے کو
مہرباں ہو گئے لٹيروں پر
ہم نے بھى اب بغاوتوں کے دِیے
رکھ دئیے رات کی منڈیروں پر
شب کے قیدی ضرور لکھیں گے
کچھ مضامین اب سویروں پر
جانور بھوک سے مِرے سارے
اور الزام آیا شیروں پر
اتنے بکھرے ہوئے ہیں یہ زریاب
تھی جوانی کبھی دلیروں پر
ہاجرہ نور زریاب
No comments:
Post a Comment