Monday, 10 October 2022

کٹ گئے پنچھیوں کے ڈھیروں پر

 کٹ گئے پنچھیوں کے ڈھیروں پر

پھر بھی ہیں مطمئن منڈیروں پر

حکمراں، اور ظلم ڈھانے کو

مہرباں ہو گئے لٹيروں پر

ہم نے بھى اب بغاوتوں کے دِیے

رکھ دئیے رات کی منڈیروں پر

شب کے قیدی ضرور لکھیں گے

کچھ مضامین اب سویروں پر

جانور بھوک سے مِرے سارے

اور الزام آیا شیروں پر

اتنے بکھرے ہوئے ہیں یہ زریاب

تھی جوانی کبھی دلیروں پر


ہاجرہ نور زریاب

No comments:

Post a Comment