Friday, 7 October 2022

جب ترا دل میں نور ہوتا ہے

 جب ترا دل میں نُور ہوتا ہے

پاس شعلۂ طُور ہوتا ہے

تابِ نظارہ تھی نہیں ورنہ

تُو کہاں مجھ سے دور ہوتا ہے

عجز دستارِ آدمیت ہے

سمِ قاتل غرور ہوتا ہے

گفتگو کم کرے، سنے زیادہ

آدمی با شعور ہوتا ہے

بے سبب کب عذاب آتے ہیں

لازماً کچھ قصور ہوتا ہے

بجلیاں حادثوں کی گرتی ہیں

جب خوشی کا وفور ہوتا ہے

یوں کسی سے گلہ نہیں ہوتا

کوئی رشتہ ضرور ہوتا ہے

سوچ مثبت اگر ملے بسمل

غم میں بھی پھر سرور ہوتا ہے


خورشید احمد بسمل

No comments:

Post a Comment