فراقِ یار میاں! ٹھیک ہو بھی سکتا ہے
وصالِ یار کی توثیق ہو بھی سکتا ہے
میاں! خیال کا کیا ٹھیک ہو بھی سکتا ہے
کسی کو باعثِ تضحیک ہو بھی سکتا ہے
زبانِ یار سے نکلے جو طنز کی صورت
وہ جینے کے لیے تحریک ہو بھی سکتا ہے
ہمارے بیچ کا رشتہ برابری کا نہیں
ابھی یہ جمع سے تفریق ہو بھی سکتا ہے
اگر وہ چاہے تو ملبوسِ خاک ہو جائے
خدا کی مرضی ہے تخلیق ہو بھی سکتا ہے
جہانِ فانی کا حصہ ہے شمس جانِ سمیر
مِری مراد کہ؛ تاریک ہو بھی سکتا ہے
سمیر شمس
No comments:
Post a Comment