Friday, 14 May 2021

اک دیا بس بجھانا رہ گیا تھا

 اک دِیا بس بُجھانا رہ گیا تھا

ہاتھ بس اب چھُڑانا رہ گیا تھا

سلسلے سارے توڑنے والے

سلسلہ تو بنانا رہ گیا تھا

میں تو کب کا ہی مان چکا تھا

بس تمہارا منانا رہ گیا تھا

اب بدل تو گیا تھا آئینہ بھی

اس میں چہرہ پرانا رہ گیا تھا

یہ محبت تھی اختتام پہ اب

بس یہ ملنا ملانا رہ گیا تھا

چل اٹھا سب جوازِ عذر اپنے

میں ہی ان کا ٹھکانا رہ گیا تھا

آ گیا ہوں میں مقتلِ جاں اتاش

ان کا مقتل سجانا رہ گیا تھا


ذیشان اتاش

No comments:

Post a Comment