میرے درد آشنا، اے مِرے چارہ گر، شعر کیسے لکھوں
میری بے مائیگی ہے مِری ہمسفر، شعر کیسے لکھوں
روز ہوتا ہے نذرِ مشقت بدن،۔ کیا مِرا بانکپن
لوٹتا ہوں میں گھر کتنا تھک ٹوٹ کر، شعر کیسے لکھوں
میرے چاروں طرف ایک سیلابِ خوں کس اذیت میں ہوں
کس قدر خوف ہے میرے اعصاب پر، شعر کیسے لکھوں
ہے فراغت کسے گھر کے احوال سے، سالہا سال سے
اب کوئی مجھ کو اپنی نہ تیری خبر، شعر کیسے لکھوں
دُکھ سمیٹوں در و بام کے رات بھر نیند سے بے خبر
دن گزرتا ہے تلوار کی دھار پر، شعر کیسے لکھوں
مجھ کو ادراکِ رمز و کنایہ کہاں، کج سخن کج بیاں
سُننے والے ہیں سارے یہاں معتبر، شعر کیسے لکھوں
کوئی لمحہ مِری دسترس میں نہیں کچھ بھی بس میں نہیں
ایک اسی دکھ میں رہتا ہوں شام و سحر، شعر کیسے لکھوں
مجھ کو میرے سوا جانتا کون ہے مانتا کون ہے
یہ ہے برسوں کی مشقِ سخن کا ثمر، شعر کیسے لکھوں
بس یہی تھی خدا سے مِری اک طلب دے دے لکھنے کا ڈھب
سب دعائیں مری ہو گئیں بے اثر، شعر کیسے لکھوں
بد دعا دے گیا کیوں سرِ انجمن کوئی درویشِ فن
ہو گیا سلب سب میرا علم و ہنر، شعر کیسے لکھوں
قحطِ رزق ان دنوں ساتھ ایک ایک پل ہو گیا ذہن شل
اپنے بچوں کو دیکھوں جو میں چشم تر، شعر کیسے لکھوں
احمد امتیاز
No comments:
Post a Comment