Thursday, 20 May 2021

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہمرکاب موسم

 ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہمرکاب موسم

نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم

ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا

جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم

وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے

خوشا کہ اس بار اس زمیں کو بھی دے گیا اک گلاب موسم

امیر لوگوں کی کوٹھیوں تک ترے غضب کی پہنچ کہاں ہے

فقط غریبوں کے جھونپڑوں تک ہے تیرا دست عتاب موسم

یہ برف پگھلے گی چوٹیوں سے پروں میں آئے گی پھر حرارت

بھریں گے اونچی اڑان پھر ہم رہے گا کب تک خراب موسم 


احتشام صدیقی

No comments:

Post a Comment