یہ الگ بات ہے کہ واقف نہیں عنوانوں کے
شہر کے لوگ تو شوقین ہیں افسانوں کے
دیکھنا جوشِ جنوں، فصلِ بہار آنے دو
’ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے‘
ڈھائے ہیں ظلم و ستم اپنوں نے وہ یاد ہیں سب
یاد ہیں لطف و کرم بھی سبھی بے گانوں کے
ہم نہ بھولیں گے زمانے کا کبھی حُسنِ سلوک
دن گزرتے ہیں، گزر جائیں گے دیوانوں کے
کتنی معصوم تمناؤں کا خوں ہوتا ہے
روز اٹھتے ہیں جنازے یہاں ارمانوں کے
روشنی شمع کی پُر کشش ہے مجذوب ابھی
غول کے غول چلے آتے ہیں پروانوں کے
مجذوب چشتی
No comments:
Post a Comment