Monday, 10 May 2021

برا نہ مانو نمازیں اب بھی یہیں پڑی ہیں

 پاپ


برا نہ مانو

نمازیں اب بھی یہیں پڑی ہیں

پہ سجدہ گاہیں اٹھا کے جانے کدھر چلے تھے

وہ صبح تم کو بھی یاد ہو گی

الگ تھے گھر اور علیحدہ چولہے

تمہارے پرچم کا رنگ الگ تھا

وطن تمہارا نیا نیا تھا

سبھی تو بانٹا تھا آدھا آدھا

مگر پڑی ہے وہاں پہ اب تک

ہماری رادھا کی ایک پائل

ہمارے کرشنا کی ایک بنسی

یہ ہیر کیسے اٹھا کے دے دیں

کہاں سے لائیں تمہارا رانجھا

کہ ہم سے پاگل

حساب رکھتے نہیں دنوں کا

ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے

کہ آریائی سے بابری ہم بنے تو کیسے

ہمیں تو شنکھ اور اذاں ہے یکساں

ہماری تاریخ کے کتنے صفحے

چرائے تم نے

کہاں کہاں سے نشاں ہمارے

مٹائے تم نے

ہماری ہولی تمہارے بِن ہے اداس کتنی

تمہیں پتہ کیا

ہماری عیدوں کو تم سے ملنے کی پیاس کتنی

کہاں چلے تھے اٹھا کے منبر

کہاں سجائی دکان تم نے

کہاں پہ بیچے ہیں مال کتنے

کہو منافع کمایا کتنا

ہمارے جیسے

تمہارے جیسے

خدا کے بندے

جو اپنے حصے کا پانی

کھودیں کنواں تو پائیں

جو اپنے تن کو دھواں بنائیں تو روٹی کھائیں

ہمیں لکیروں کے کھیل سے کیا

ہمیں تجارت سے واسطہ کب

جنہیں تھا سود و زیاں سے مطلب

وہ کاروبارِ جہاں سے رخصت

یہ آگ اب بھی بھڑک رہی ہے

چلو بزرگوں کے پاپ دھوئیں

ہمارے مندر سنبھالو تم سب

تمہاری مسجد کے ہم نگہباں


شہناز نبی

No comments:

Post a Comment