ہونٹوں پہ تشنگی ہے اور ہاتھوں میں خالی جام ہے
ملتی نہیں ہے شیخ کو؛ کہتے ہیں مے حرام ہے
دل یہ خدا کا گھر سہی پھر بھی صنم تو ہیں یہاں
مانا صنم کدہ نہیں پھر بھی یہ زیرِ دام ہے
تم ہی کہو جو حق کہو تم ہی خدا شناس ہو
ہم میکشوں کو شیخ جی کرنے کو اور کام ہے
محمد علی بخاری
No comments:
Post a Comment