Monday, 22 November 2021

ہونٹوں پہ تشنگی ہے اور ہاتھوں میں خالی جام ہے

ہونٹوں پہ تشنگی ہے اور ہاتھوں میں خالی جام ہے

ملتی نہیں ہے شیخ کو؛ کہتے ہیں مے حرام ہے

دل یہ خدا کا گھر سہی پھر بھی صنم تو ہیں یہاں

مانا صنم کدہ نہیں پھر بھی یہ زیرِ دام ہے

تم ہی کہو جو حق کہو تم ہی خدا شناس ہو

ہم میکشوں کو شیخ جی کرنے کو اور کام ہے


محمد علی بخاری 

No comments:

Post a Comment