Monday, 22 November 2021

فسانۂ غم دل کیوں سنا رہی ہوں میں

 فسانۂ غمِ دل کیوں سنا رہی ہوں میں

جو ہنس رہے تھے انہیں بھی رُلا رہی ہوں میں

کسی کی راہ میں ہستی لٹا رہی ہوں میں

تعلقات کے معنی بتا رہی ہوں میں

تیرا جنون ہے میرا ہر قدم پہ رہنما

قریب منزلِ مقصود آ رہی ہوں میں

کمالِ شوق نے کی وسعتِ نظر پیدا

جمالِ یار ہر اک شہ میں پا رہی ہوں میں

یہ میرا پیار الجھتا ہے ناز سے ان کے

وہ مجھ سے روٹھ گئے ہیں منا رہی ہوں میں

بزم میں ان کی نہیں کوئی سمجھنےوالا

یہ رازِ بے خودی کس کو بتا رہی ہوں میں

شبِ فراق کی تعریف کیا ہو فرزانہ

کہ لطفِ آرزوئے وصل پا رہی ہوں میں


فرزانہ غوری

No comments:

Post a Comment