Tuesday, 10 July 2018

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

توسیعِ شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بُور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بِک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چِیر گئے ان ساونتوں کے جسم

زندگی اے زندگی

زندگی، اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گل
میں کھڑا ہوں، تیرے در پر، زندگی
ملتجی و مضمحل
خرقہ پوش و پا بہ گل
اے جہانِ خار و خس کی روشنی
زندگی، اے زندگی

سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر

درسِ ایام 

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی
تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے
وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو
صدہا تبسموں سے لدے طاقچے گئے
آنکھوں کو چھیدتے ہوۓ نیزوں کے سامنے
محراب زر سے اٹھتے ہوۓ قہقہے گئے

Tuesday, 3 July 2018

خاکم بدہن میں عازم میخانہ تھی کل رات کو دیکھا

خاکم بدہن

میں عازمِ مے خانہ تھی کل رات کو دیکھا
اک کوچۂ پر شور میں اصحابِ طریقت
تھے دست و گریباں
خاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھے
فتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاں
دستانِ مبارک میں تھیں ریشانِ مبارک

جن پر میرا دل دھڑکا تھا

جن پر میرا دل دھڑکا تھا
وہ سب باتیں دہراتے ہو
وہ جانے کیسی لڑکی ہے 
تم اب جس کے گھر جاتے ہو
مجھ سے کہتے تھے
بن کاجل اچھی لگتی ہیں میری آنکھیں 

یہ زرد موسم کے خشک پتے

زرد موسم

یہ زرد موسم کے خشک پتے
ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر
اگر کبھی تم یہ دیکھ پاؤ
تو سوچ لینا
کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں
زیاں گیا عرق شاخِ گل کا

ایوان عدالت میں

ایوان عدالت میں

نذیر عباسی کی شہادت پر کہی گئی ایک نظم

پتھرائی ہوئی آنکھیں
پتھراۓ ہوۓ چہرے
پتھرائی ہوئی سانسیس
چمڑے کی زبانوں پر 
پتھرائی ہوئی باتیں