عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں
مِرے عزیز گلے سے لگا کے نوچتے ہیں
انہیں بھلاؤں تو کانٹے بھی نرم لگتے ہیں
کروں جو یاد تو ریشم بھی آ کے نوچتے ہیں
مشاہدے سے یہ جانا ہے یار! محفل میں
بٹھا کے پاس مجھے مسکرا کے نوچتے ہیں
عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں
مِرے عزیز گلے سے لگا کے نوچتے ہیں
انہیں بھلاؤں تو کانٹے بھی نرم لگتے ہیں
کروں جو یاد تو ریشم بھی آ کے نوچتے ہیں
مشاہدے سے یہ جانا ہے یار! محفل میں
بٹھا کے پاس مجھے مسکرا کے نوچتے ہیں
جس نے درِ وحشت کیا وا دشتِ جنوں میں
اس نے مجھے زنجیر کیا دشتِ جنوں میں
سب ارض و سما بھرنے لگے چاپ سے اپنی
کیا لگتی تھی قدموں کی صدا دشتِ جنوں میں
کھل جاتا کبھی سر تو چلی آتی تِری یاد
رکھ جاتی مِرے سر پہ ردا دشتِ جنوں میں
یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیے ہو
مِری زیست لرزاں شجر کس لیے ہو
کوئی تہمتیں آپ پر بھی لگائے
ہر الزام میرے ہی سر کس لیے ہو
ہر اک ظلم ہنس کر کہاں تک سہیں ہم
ہر اک بات پر درگزر کس لیے ہو
الجھی مسافتوں کی کہانی تمام شد
جگنو، چراغ، رستہ، نشانی تمام شد
وارفتگی، اذیتیں، اینٹھن، تغیرات
ہحرت، برادہ، سانس، روانی تمام شد
لہجے کی سوگواری، مقفل سکڑتے ہونٹ
لُکنت کا رنج، خستہ معانی تمام شد
آئینہ اندھیروں کو دِکھا کیوں نہیں دیتے
اک شمع سرِ دار جلا کیوں نہیں دیتے
پتھر بھی چٹختے ہیں تو دے جاتے ہیں آواز
دل ٹوٹ رہے ہیں تو صدا کیوں نہیں دیتے
کب تک پسِ دیوار سِسکتے رہے انساں
شہروں کی فصیلوں کو گِرا کیوں نہیں دیتے
کایا کلپ
تجھ کو پہلی بار جو چوما
تیرے پیٹ پہ اک گلاب کا پھول کھلا
دوبارہ چوما
ایک پرندہ
تیرے اور میرے عریاں جسموں کے اوپر اڑا
کہو تو رونقِ دل ہم تمہارے نام کریں
یہ زندگی کا سفر ہم یہیں تمام کریں
سجا کے طشت پہ رکھا ہے پھول اور خنجر
جھکا ہے سر بھی تو کیا اور اہتمام کریں
یہ خامشی تو مسائل کا حل نہیں ہے جناب
بنامِ فردا ہی آپس میں کچھ کلام کریں