Tuesday, 9 October 2018

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے 
مگر یہ بات بڑی دور جا نکلتی ہے 
ستم تو یہ ہے کہ عہدِ ستم کے جاتے ہی 
تمام خلق مِری ہم نوا نکلتی ہے 
وصال و ہجر کی حسرت میں جوئے کم مایہ 
کبھی کبھی کسی صحرا میں جا نکلتی ہے 

کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی

کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی 
بگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھی 
وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گِلہ تو اس کا ہے 
کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی 
وہ مجھ سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا 
کہ دشمنی میں بھی شدت اسی لگاؤ کی تھی 

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست 
تُو مری پہلی محبت تھی مِری آخری دوست 
لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں 
یہ تو دنیا ہے مِری جاں! کئی دشمن کئی دوست 
تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئی 
میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست 

Wednesday, 22 August 2018

سکوں ملے نہ ملے یا قرار ہو کے نہ ہو

سکوں ملے نہ ملے یا قرار ہو کے نہ ہو
چمن کی خیر الہٰی! 🎕بہار ہو کے نہ ہو🎕
ہم اس کے یار ہیں، وہ اپنا یار ہو کے نہ ہو
ہمیں تو اس سے پیار ہے، اس کو پیار ہو کے نہ ہو
اٹی ہوئی ہیں تلون کی دھول سے نظریں
کھنچے کھنچے تو ہو، دل میں غبار ہو کے نہ ہو

یہ بات دل سے کہوں گا فقط زباں سے نہیں

یہ بات دل سے کہوں گا فقط زباں سے نہیں
کوئی ملال مجھے جورِ دوستاں سے نہیں
قفس نصیب کو اب ربط گلستاں سے نہیں
زمینِ گل سے نہیں شاخِ آشیاں سے نہیں
ملال ہے تو عدو کی شکاہتوں کا انہیں
وہ غمزدہ ہیں مگر مری داستاں سے نہیں

لڑاتے ہیں نظر ان سے جو ہوتے ہیں نظر والے

لڑاتے ہیں نظر ان سے جو ہوتے ہیں نظر والے
محبت کرتے ہیں دنیا میں دل والے، جگر والے
ہمیں ذوقِ نظر نے کر دیا اس راز سے واقف
اشاروں میں پرکھتے ہیں زمانے کو نظر والے
کوئی تم سا نہ دیکھا، یوں تو دیکھا ہم نے دنیا میں 
بہت جادو نظر والے، بہت جادو اثر والے

آ گئیں چل کے ہوائیں تیرے دیوانے تک

آ گئیں چل کے ہوائیں تیرے دیوانے تک
اب یہی لے کے چلیں گی اسے مےخانے تک
کوئی چھیڑے نہ مجھے عہد بہار آنے تک
میں پہنچ جاؤں گا خود جھوم کے مےخانے تک
آکے خود رقص کیا کرتا ہے جل جانے تک
شمعِ سوزاں کبھی جاتی نہیں پروانے تک