Monday, 1 March 2021

کتنے اسرار واہمے میں ہیں

 کتنے اسرار واہمے میں ہیں

ہم کہ مصروف کھوجنے میں ہیں

ہم سفر لا مکان کو پہنچا

اور ہم پہلے مرحلے میں ہیں

تُو ابھی تک دِکھا نہیں ہے ہمیں

ہم ابھی تک مراقبے میں ہیں

آئینے سے اثر لیا گیا ہے

آئینے سے اثر لیا گیا ہے

خود کو تسلیم کر لیا گیا ہے

رزق اترے گا آسمانوں سے

کھیت پانی سے بھر لیا گیا ہے

کوئی آواز بھی نہیں آتی

کس خرابے میں گھر لیا گیا ہے

حادثوں کے ریلے ہیں مشکلوں کے میلے ہیں

 حادثوں کے ریلے ہیں، مشکلوں کے میلے ہیں

ہم نے چند ہی دن میں کیا عذاب جھیلے ہیں

زندگی کے طوفاں میں کون ساتھ دیتا تھا

جب بھی ہم اکیلے تھے، اب بھی ہم اکیلے ہیں

آج کل تو ہے اعجاز، راستے بھی کٹ جانا

ہر قدم رکاوٹ ہے، ہر قدم جھمیلے ہیں

ہر قدم ایک امتحاں سا ہے

 ہر قدم ایک امتحاں سا ہے

دل مِرا ٹوٹتا مکاں سا ہے

رات کالی ہے آج کیوں اتنی

ہر طرف کیوں دھواں دھواں سا ہے

تیری خوشبو بسی ہے سانسوں میں

گھر مِرا ایک گلستاں سا ہے

اک سایہ میرے جیسا ہے

 اک سایہ میرے جیسا ہے

جو میرا پیچھا کرتا ہے

اب شور سے عاجز سناٹا

کانوں میں باتیں کرتا ہے

اس موڑ کے آگے رستہ ہے

میں ایک ٹھکانہ ڈھونڈتا ہوں

اے بگولے کے لبادے میں سمائی ہوئی ریت

 اے بگولے کے لبادے میں سمائی ہوئی ریت

ساتھ رکھ لے مجھے اے وجد میں آئی ہوئی ریت

تاکہ سورج قریں آئے تو یہ صحرا ہو جائے 

سو سمندر تلے اس نے ہے بچھائی ہوئی ریت 

بیٹھے بیٹھے مجھے چوراہا💢 بنا دیتی ہے 

چار سمتوں سے مِری سمت اڑائی ہوئی ریت 

میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا

 میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا

جسم میں ڈھل کے مِری روح رواں میں آنا

کھو نہ جانا مِری جاں سرحد جاں تک آ کے

قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا

میں تِرے حسن کو رعنائی معنی دے دوں

تو کسی شب مِرے انداز بیاں میں آنا