Sunday, 31 December 2017

اس شہر صد آشوب میں اتری ہے قضا دیکھ

اس شہرِ صد آشوب میں اتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ
بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ
سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

حشر برپا ہے مرے جامہ عریانی سے

حشر برپا ہے مِرے جامۂ عریانی سے
داغ جاتا ہی نہیں عشق کا پیشانی سے
کعبۂ دل میں ہے بت خانہ بھی، میخانہ بھی
خوف آتا ہے مجھے اپنی مسلمانی سے
تیری آنکھیں ہیں مئے مست کے ساغر لیکن
سارے طوفاں ہیں مِرے خون کی جولانی سے

داستاں عشق کی مقتل کا بیاں ٹھہرے گی

گفتگو درد کی عالم کی زباں ٹھہرے گی
داستاں عشق کی مقتل کا بیاں ٹھہرے گی
شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکمِ رواں ٹھہرے گی
شیخ و واعظ کا بیاں، فلسفۂ عشقِ بتاں
شاعری دیر و کلیسا کی اذاں ٹھہرے گی

Friday, 29 December 2017

دھیمے رنگوں کی دھوپ جیسی ہے

دھیمے رنگوں کی، دھوپ جیسی ہے
وہ ہنسی، کچی دھوپ جیسی ہے
رنگ آنکھوں کے ہو گئے گہرے
شام بھی، پکی دھوپ جیسی ہے
میں فقط، عکسِ آبِ آئینہ ہوں
یعنی، چمکیلی دھوپ جیسی ہے

کیا امید آس ٹوٹنے تک تھی

کیا امید، آس ٹوٹنے تک تھی
کیا مِری ہار ماننے تک تھی
کیا تِرا ہجر، ہجر ہی رہے گا
کیا تِری خوشبو سوچنے تک تھی
کیا مِری چپ سمجھ نہیں پائے
کیا ہر اک بات بولنے تک تھی

پہلے تو اس نے خود میں کیا مبتلا مجھے

پہلے تو اس نے خود میں کیا مبتلا مجھے
مجھ سے ہی رفتہ رفتہ کیا پھر جدا مجھے
آنکھوں میں رکھ رکھاؤ تو پہلے سا تھا مگر
لہجے کی سلوٹوں سے لگا دوسرا مجھے
جب تک انا تھی مجھ میں محبت نہیں ہوئی
خود کو فنا کیا تو ملا راستہ مجھے

جالے بنتی ہوئی مکڑی نہیں دیکھی جاتی

جالے بُنتی ہوئی مکڑی نہیں دیکھی جاتی
ماں، ترے گھر کی اداسی نہیں دیکھی جاتی
تجھ سلیقے سے ہر اک کونہ چمک اٹھتا تھا
صحن میں اب جمی کائی نہیں دیکھی جاتی
کس طرح تجھ کو بتاؤں، ترے ہونے کی کمی
گھر کے ہر طاق میں بیٹھی نہیں دیکھی جاتی