Tuesday, 23 February 2021

وہ مری بزم میں آیا ہو کبھی یاد نہیں

 وہ مِری بزم میں آیا ہو کبھی یاد نہیں 

حالِ دل کھُل کے سنایا ہو کبھی یاد نہیں 

اک سرِ راہ ملاقات تو تسلیم، مگر 

خلوتوں میں بھی بلایا ہو کبھی یاد نہیں 

قہقہے چھین کے آنسو مجھے دینے والے 

میں نے تجھ کو بھی رُلایا ہو کبھی یاد نہیں 

بہ ہر سو خامشی سی جانے کیوں ہے

بہ ہر سو خامشی سی جانے کیوں ہے

کہی بھی ان کہی سی جانے کیوں ہے

بہت کم گو فسردہ سی، مگر وہ

ہمیں لگتی بھلی سی جانے کیوں ہے

زہے سب کچھ میسر ہے پہ دل کو

ہمیشہ اک کمی سی جانے کیوں ہے

ثواب تیرے لیے ہے دراب تیرے لیے

 ثواب تیرے لیے ہے، دراب تیرے لیے

شراب تیرے لیے ہے، کباب تیرے لیے

امام  سب کے لیے ایک ہی ہے سب کا غنی

خطاب تیرے لیے ہے، تراب تیرے لیے

تُو اپنی شرم و حیا کے معیار سامنے رکھ

نقاب تیرے لیے ہے، حجاب تیرے لیے

جانے کیا شام کر گیا آنسو

 جانے کیا شام کر گیا آنسو

مجھ کو ناکام کر گیا آنسو

آنکھ سے گِر گیا ہے دامن پر

ضبط بد نام کر گیا آنسو

وہ مجھے چھوڑ جانے والا تھا

اور پھر کام کر گیا آنسو

بستی والوں نے اسے کب کوئی چھوڑا ہو گا

 بستی والوں نے اسے کب کوئی چھوڑا ہو گا

جب کوئی جان بچاتے ہوئے دوڑا ہو گا

زندگی دشت نوردی میں گزاری تُو نے

جانے کتنوں کی کلائی کو مروڑا ہو گا

ایسی باتوں پہ مِری جان لڑائی کیسی

تُو نے چھوڑا ہے تو کچھ سوچ کے چھوڑا ہو گا

پہلے دن جو خامہ قدرت نے لکھا لفظ لفظ

 پہلے دن جو خامۂ قدرت نے لکھا لفظ لفظ

ہو گیا اب صفحۂ عالم پر ہویدا لفظ لفظ

پورے وحدت کے معنی کوئی پا سکتا نہیں

ذہن میں کس کے یہ آ سکتا ہے پورا لفظ لفظ

کیسا مضمون ہے مسلسل نسخۂ ایجاد کا

دفتر عالم کا ہے پیچیدہ کیسا لفظ لفظ

جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ

 جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ

خوشیوں کے منہ میں درد بھرا ذائقہ بھی رکھ

ہر راستہ کہیں نہ کہیں مڑ ہی جائے گا

رشتوں کے بیچ تھوڑا بہت فاصلہ بھی رکھ

یوں بھی نہ ہو کہ جو بھی اٹھے تجھ میں جھانک لے

خود میں نہ یوں سمٹ کوئی درد آشنا بھی رکھ