Monday, 6 June 2016

وہ مجھ کو دیکھ کچھ اس ڈھب سے شرمسار ہوا

وہ مجھ کو دیکھ کچھ اس ڈھب سے شرمسار ہوا
کہ میں حیا ہی پر اس کی فقط نثار ہوا
سبھوں کو بوسے دیے ہنس کے اور ہمیں گالی
ہزار شکر! بھلا اس قدر تو پیار ہوا
ہمارے مرنے کو، ہاں، تم تو جھوٹ سمجھے تھے
کہا رقیب نے، لو، اب تو اعتبار ہوا

اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا

اس کے شرارِ حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا
طور کو سر سے پاؤں تک، پھونک دیا جلا دیا
پھر کے نگاہ چار سو، ٹھہری اسی کے رو برو
اس نے تو میری چشم کو،۔ قبلہ نما بنا دیا
میرا اور اس کا اختلاط، ہو گیا مثلِ ابر و برق
اس نے مجھے رلا دیا، میں نے اسے ہنسا دیا

Wednesday, 1 June 2016

بہکی بہکی ہیں نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا

بہکی بہکی ہیں، نگاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
کھوئی کھوئی سی ہیں، راہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
دل کی رگ رگ میں رواں تھا جن سے خون زندگی 
ان تمنّاؤں کو، چاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 
نا مکمّل تھا فسانہ دِہر کا جن کے بغیر 
ان گداؤں، بادشاہوں کو نہ جانے کیا ہوا 

نظر سے نظر ملانا کوئی مذاق نہیں

نظر سے نظر ملانا کوئی مذاق نہیں
ملا کے آنکھ چرانا کوئی مذاق نہیں
پہاڑ کاٹ تو سکتا ہے تیشۂ فرہاد
پہاڑ سر پہ اٹھانا کوئی مذاق نہیں
اڑانیں بھرتے رہیں لاکھ طائران خیال
ستارے توڑ کے لانا کوئی مذاق نہیں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں
غرقاب سفینوں کے سسکنے کی صدا ہوں
اک خاک بہ سر برگ ہوں ٹہنی سے جدا ہوں
جوڑے گا مجھے کون کہ میں ٹوٹ گیا ہوں
اب بھی مجھے اپنائے نہ دنیا تو کروں کیا
ماحول سے پیمانِ وفا باندھ رہا ہوں

صنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا

صنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا
ہزار شکر کہ تُو بُت ہوا خدا نہ ہوا
کباب ہو گیا آخر کو کچھ بُرا نہ ہوا
عجب یہ دل ہے جلا تو بھی بے مزہ نہ ہوا
شگفتگی سے ہے غنچہ کے تئیں پریشانی
بھلا ہوا کبھی کافر تو مجھ سے وا نہ ہوا

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا
کاروانِ اشک چلتا ہی رہا
اس کفِ پا پر تِرے رنگِ حنا
جن نے دیکھا ہاتھ مَلتا ہی رہا
صبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ
داغِ دل تا شام جلتا ہی رہا