Thursday, 1 December 2016

دل محبت میں مبتلا ہو جائے

دل محبت میں مبتلا ہو جائے
جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے
تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے 
جو تجھے دیکھ لے، تیرا ہو جائے
بس وہ اتنا کہے، مجھے تم سے
اور پھر کال منقطع ہو جائے

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں

چیختے ہیں در و دیوار، نہیں ہوتا میں
آنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میں
ناؤ ہوں اور مِرا ساحل سے بھی رشتہ ہے کوئی 
یعنی، دریا میں لگا تار نہیں ہوتا میں
خواب کرنا ہو، سفر کرنا ہو، یا رونا ہو 
مجھ میں اک خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا میں

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں
میں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں
باہر آنے کی بھی سکت نہیں ہم میں
تُو نے کس موسم میں پنجرے کھولے ہیں
کون ہماری پیاس پہ ڈاکہ ڈال گیا
کس نے مشکیزوں کے تسمے کھولے ہیں

ملنا ہے گر رقیب سے وہ بیوفا ملے

ملنا ہے گر رقیب سے وہ بے وفا ملے
چاہیں گے ہم بھی کوئی بتِ دلربا ملے
بس جی چکے، اجل کا الہٰی مزا ملے
آبِ بقا دے خضرؑ کو، مجھ کو فنا ملے
آئے ہیں پھول باغ میں اب سال بھر کے بعد
کیوں کر گلے نہ دوڑ کے بادِ صبا ملے

وعدہ وصل پہ وہ چھپ چھپ کے وفا کرتے ہیں

وعدۂ وصل پہ وہ چھپ چھپ کے وفا کرتے ہیں
خواب میں آ کے گلے مجھ سے ملا کرتے ہیں
کیوں خفا بیٹھے ہو منہ پھیرے ہوۓ تم ہم سے
دل کی کہتے ہیں، نہ غیروں کا گِلا کرتے ہیں
بت سے مطلب نہ کلیسا سے غرض کچھ ہم کو
جس کے بندے ہیں اسے یاد کیا کرتے ہیں

آ پڑے ہیں در پر ترے ہر کہیں سے ہم

آ پڑے ہیں در پر تِرے ہر کہیں سے ہم
گر حشر کو اٹھے تو اٹھیں گے یہیں سے ہم
کیوں پوچھتے ہو یہ، دلِ وحشی کہاں ملا
اب اس سے تم کو کیا، اسے لائے کہیں سے ہم
پائے طلب کو توڑ کے بیٹھے ہیں خاک پر
رکھتے نہیں غرض کسی مسند نشیں سے ہم

بنایا ہے کرم سے نقش پائے مصطفےٰ مجھ کو

بنایا ہے کرم سے نقش پائے مصطفٰیﷺ مجھ کو
نہ ڈالے گا جہنم میں کبھی میرا خدا مجھ کو
نتیجہ یہ ہوا آخر ستم کا صبر کرنے کا
خدائی پر جفا کہتی ہے تم کو باوفا مجھ کو
کہاں اب کاروانِ رفتہ کا نام و نشاں باقی
مگر ہاں کچھ سنائی دیتی ہے بانگِ درا مجھ کو