دل محبت میں مبتلا ہو جائے
جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے
تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے
جو تجھے دیکھ لے، تیرا ہو جائے
بس وہ اتنا کہے، مجھے تم سے
خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے
کوئی ڈھونڈھے تو لا پتہ ہو جائے
میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں
سایا دیوار سے جدا ہو جائے
ایک دو بار عشق جائز ہے
یہ اگر تیسری دفعہ ہو جائے
جس طرح جل رہا ہے صدیوں سے
عین ممکن ہے دل دِیا ہو جائے
دل بھی کیسا درخت ہے حافیؔ
جو تِری یاد سے ہرا ہو جائے
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment