Saturday, 30 April 2016

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

تنِ تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غمگساروں سے
انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعویداروں سے
شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
سنے کوئی، تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے
پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے

اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے

اس طرح محبت میں دل پہ حکمرانی ہے
دل نہیں میرا گویا ان کی راجدھانی ہے
گھاس کے گھروندے سے زور آزمائی کیا
آندھیاں بھی پگلی ہیں، برق بھی دیوانی ہے
شاید انکے دامن نے پونچھ دیں مِری آنکھیں
آج میرے اشکوں کا رنگ زعفرانی ہے

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
پھر یہ بارش مِری تنہائی چرانے آئی
زندگی باپ کی مانند سجا دیتی ہے
رحمدل ماں کی طرح موت بچانے آئی
آج کل پھر دلِ برباد کی باتیں ہیں وہی
ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی

جگر کی آگ بجھے جلد جس میں وہ شے لا

جگر کی آگ بجھے جلد جس میں وہ شے لا
لگا کے برف میں ساقی صراحیٔ مئے لا
قدم کو ہاتھ لگاتا ہوں، اٹھ کہیں گھر چل
خدا کے واسطے اتنا تو پاؤں مت پھیلا
نکل کے وادیٔ وحشت سے دیکھ اے مجنوں
کہ زور دھن میں اب آتا ہے ناقۂ لیلا

دل ستم زدہ بے تابیوں نے لوٹ لیا

دلِ ستم زدہ بے تابیوں نے لُوٹ لیا
ہمارے قِبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا
کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
یہ موجِ لالۂ خود رو، نسیم سے بولی
کہ کوہ و دشت کو سیرابیوں نے لوٹ لیا

غلط معانی دئیے جاتے ہیں زیر لب تبسم کو

غلط معانی دئیے جاتے ہیں زیرِ لب تبسم کو 
سمجھ پاۓ نہ اب تک لوگ اس خاموش قلزم کو 
بڑا دھوکا دیا ہم کو ہماری خوش خیالی نے 
نہ جانے کیا سمجھ بیٹھے نگاہوں کے تصادم کو
محبت میں خطائیں ایک جانب سے نہیں ہوتیں 
نہ تم الزام دو ہم کو، نہ ہم الزام دیں تم کو 

کچھ ایسے زخم بھی درپردہ ہم نے کھائے ہیں

کچھ ایسے زخم بھی درپردہ ہم نے کھائے ہیں
جو ہم نے اپنے رقیبوں سے بھی چھپائے ہیں
یہ کیا بتائیں کہ ہم کیا گنوا کے آئے ہیں
بس اک ضمیر بمشکل بچا کے لائے ہیں
اب آ گئے ہیں تو پیاسے نہ جائیں گے ساقی
کچھ آج سوچ کے ہم مے کدے میں آئے ہیں