تنِ تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غمگساروں سے
انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعویداروں سے
شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
سنے کوئی، تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے
پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے