میں کیا ہوں اس خیال سے لگتا ہے ڈر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے
لے ساتھ ہوش کو اے اہلِ ہوش جاؤ
ہے خوب اپنی بے خبری کی خبر مجھے
بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے
گم ہو گیا ہوں بے ودئ ذوقِ عشق میں
اے عقل جا کے لا تو ذرا ڈھونڈ کر مجھے
اے روشنئ طبع! تو برمن بلا شدی
پھر یہ نہیں تو کھا گئی کس کی نظر مجھے
میں اپنی زندگی کو برا کیوں کہوں حفیظؔ
رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عمر بھر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے
لے ساتھ ہوش کو اے اہلِ ہوش جاؤ
ہے خوب اپنی بے خبری کی خبر مجھے
بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے
گم ہو گیا ہوں بے ودئ ذوقِ عشق میں
اے عقل جا کے لا تو ذرا ڈھونڈ کر مجھے
اے روشنئ طبع! تو برمن بلا شدی
پھر یہ نہیں تو کھا گئی کس کی نظر مجھے
میں اپنی زندگی کو برا کیوں کہوں حفیظؔ
رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عمر بھر مجھے
حفیظ جالندھری
No comments:
Post a Comment