Tuesday, 7 January 2014

آسماں کی چادر پرجس قدر ستارے ہیں

آسماں کی چادر پرجس قدر ستارے ہیں
    ہم نے اتنے ہی لمحے جاگ کر گزارے ہیں
    رنگ و نُور کے پیکر دیکھ کر خیال آئے
    حسن نے مری خاطر کتنے روپ دھارے ہیں
    تم قیام کے خُوگر، ہم سفر کے شیدائی
    بستیاں تمہاری ہیں، راستے ہمارے ہیں
    جانے پُھول کب مہکیں، جانے آگ کب بھڑکے
    دل میں نیم وا کلیاں، ذہن میں شرارے ہیں
    دل کی ڈولتی کشتی کیسے گھاٹ اُترے گی
    بے گراں سمندر ہے، بے لگام دھارے ہیں

 مقبول عامر

No comments:

Post a Comment