یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مِرا سہی، دو پہر نہ بھائے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا
جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیلؔ
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment