Saturday, 11 January 2014

کل پرسش احوال جو کی یار نے میرے

کل پُرسشِ احوال جو کی یار نے میرے
 کس رشک سے دیکھا مجھے غمخوار نے میرے
 بس ایک تِرا نام چھپانے کی غرض سے
 کس کس کو پکارا دلِ بیمار نے میرے
یا گرمئ بازار تھی یا خوف زباں تھا
 پھر بیچ دیا مجھ کو خریدار نے میرے
 ویرانی میں بڑھ کر تھے بیاباں سے تو پھر کیوں
 شرمندہ کیا ہے در و دیوار نے میرے
 جب شاعری پردہ ہے فراز اپنے جنوں کا
 پھر کیوں مجھے رُسوا کیا اشعار نے میرے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment